بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک علاقے میں متعدد جگہ جمعہ کا انعقاد

سوال

میرے گاؤں میں تقریباً سات ہزار سے زائد کی آبادی ہے ،جوتے چپل کے علاوہ تمام چیزیں دستیاب ہیں، مثلاً: شفاخانہ ، کل مدارس اسکول پانچ عدد ، گیراج ، وغیرہ، اس گاؤں میں آٹھ مساجد ہیں اور ایک قدیم جامع مسجد ہے جس میں تقریباً سولہ سو مصلیان باجماعت نماز جمعہ ادا کرپاتے ہیں، جگہ کی قلت کی بنا پر کیا گاؤں کی دوسری مسجد میں جمعہ قائم کر سکتے ہیں ؟ اس کی کیاصورت ہوگی ؟

جواب

ایک علاقہ  کی مختلف مساجد میں جمعہ  کا انعقاد درست ہے   یہی مذھب حنفی کا مفتی بہ قول ہے؛ لہذا  آپ اپنے علاقے  میں جگہ کی قلت کے باعث دوسری جگہ بھی جمعہ کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں ۔

فتاوی ھندیہ 145/1ط: رشیدیہ،        فتاوی شامی 145/2ط: سعید          فتاوی دارالعلوم دیوبند107/5 ط: دارالاشاعت۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200075
تاریخ13-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں