بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قرضہ لینا

سوال

 کیا بینک سےقرض لے کر کاروبار میں لگا سکتے ہیں؟  میری دوکان ہے، میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں، بینک سے چالیس ہزار لے کر پچاس ہزاردینے پڑتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

بینک سے قرض لے کر جو اضافی رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، جس  کا لینا ، دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں  سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ؛ اس لیے اس سے احتراز  لازم اور ضروری ہےانجام کارسودی قرضہ کاروبار میں ترقی کے بجائے تنزلی کا ذریعہ بنتاہے؛ لہذااپنی وسعت کے مطابق کام کریں، سودی قرضہ نہ لیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200069
تاریخ12-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں