بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی چشمہ کے پانی کو شفا کا ذریعہ سمجھنا

سوال

گلگت بلتستا ن کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک چشمہ نکلا ہے، جس کے پانی کو لوگ شفا کے لیے پیتے ہیں، میرے خیال میں یہ غلط ہے، آیا یہ غلط ہے یا درست؟

جواب

شفا دینے والی ذات اللہ تعالیٰ  کی ہے، ممکن ہے کہ اس چشمہ کے پانی سے لوگ شفایاب ہوتے ہوں ، جیسے  دوا کے استعمال سے اللہ پاک اس کو شفا کا ذریعہ بنادیتے ہیں، البتہ  اس چشمہ کے پانی کو شفا کا مؤثر حقیقی نہ سمجھا جائے؛ لہٰذا اگر مذکورہ چشمے کا پانی لوگ شفا کے لیے پیتے ہیں اور مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کو ہی سمجھتے ہیں تو مذکورہ چشمے کا پانی شفا کی غرض سے پینا جائزہوگا۔  لیکن اگر لوگوں کے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو  کہ اسی چشمہ کو مؤثر حقیقی سجھنا شروع کردیں تو پھر سختی سے اس کی تردید  کی ضرورت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200052
تاریخ06-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں