بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنت مؤکدہ اور غیر مؤ کدہ کاحکم

سوال

سنت مؤکدہ اور غیر مؤ کدہ کاحکم بیان کریں۔کیا سنت مؤکدہ کا پڑھنا فرض کی طرح لازمی ہے یا چھوڑنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟  جیسا کہ فجر سے پہلے 2 اور ظہر سے پہلے4اور بعد میں 2 ،مغرب اور عشاء کے بعد 2،2 رکعتیں سنت ہیں۔

جواب

سنت مؤکدہ کااہتمام کرناواجب کے قریب ہے،بلاکسی عذر کے سنت مؤکدہ کاترک جائز نہیں ہے جوشخص بلاکسی عذر کے سنت مؤکدہ ترک کرتاہے وہ گناہ گار اور لائق ملامت ہے۔البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلاً وقت تنگ ہے اور صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہویاکوئی ضرورت  تو اس وقت سنتوں کو چھوڑ سکتاہے۔[کفایت المفتی 3/319،دارالاشاعت]

البتہ فجر کی نماز کا وقت اگر تنک ہو تو فجر کے وقت میں صرف فرض نماز ادا کرلی جائے، اور اشراق کا وقت ہونے کے بعد سے لے کر اسی دن کے زوال سے پہلے  فجر کی سنتیں پڑھ لی جائیں ؛ کیوں کہ  تمام سنت نمازوں میں فجر کی سنتوں کی سب سے زیادہ تاکید احادیث مبارکہ میں آئی ہے۔

البحرالرائق میں ہے:'' سنة مؤكدة قوية قريبة من الواجب حتى أطلق بعضهم عليه الوجوب، ولهذا قال محمد: لو اجتمع أهل بلد على تركه قاتلناهم عليه، وعند أبي يوسف يحبسون ويضربون وهو يدل على تأكده لا على وجوبه''۔[3/6]

فتاویٰ شامی میں ہے:'' ولهذا كانت السنة المؤكدة قريبة من الواجب في لحوق الإثم كما في البحر ويستوجب تاركها التضليل واللوم كما في التحرير أي على سبيل الإصرار بلا عذر ''۔[2/12]

سنت غیر مؤکدہ کابھی اہتمام کرناچاہیے،سنت غیرموکدہ پڑھنے پر ثواب ہے اور نہ پڑھنے پر گناہ نہیں۔ہرشخص ہی ثواب واجر کامحتاج ہے؛ اس لیے ان کے ترک کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔فتاوی شامی میں ہے:'' تركه لا يوجب إساءة ولا عتابا كترك سنة الزوائد ، لكن فعله أفضل ''۔[1/477دارالفکر] فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200050
تاریخ06-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں