بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ پر زکاۃ اور قربانی کے وجوب کا حکم

سوال

میں زکاۃ کے  بارے میں پوچھنا چاہتاہوں، ہم سرکاری ملازمین سے جنرل پی ایف(General Provident Fund) ہر مہینہ 2500 روپے  وضع کیا جاتاہے جو ریٹائر ہونے پر ہمیں ملے گا، ریٹائرمنٹ سے پہلے ملازمین اپنی جمع شدہ رقم کا اسی/۸۰ فیصد کسی بھی وقت نکال سکتے ہیں ، لیکن یہ لون کی شکل میں ہوگا جسے لینے کے بعد ہر مہینے کی تنخواہ سے اس کی الگ سے کٹوتی ہوگی۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ: اگر میرے اس جنرل پی ایف میں جمع شدہ رقم اگر 800،000 ہو تو مجھے اس پہ زکاۃ  اور قربانی ادا کرنی  ہوگی یا نہیں؟

جواب

جنرل پراویڈنٹ فنڈ میں حکومت مستاجر (Employer) ہے اور ملازم اجیر (Employee) ہے ، چوں کہ فنڈ کی رقم مستاجر (حکومت) کے قبضہ میں رہتی ہے ، اس پر اجیر ( ملازم) کی ملکیت نہیں ہوتی، صرف استحقاق ملک ہوتا ہے، لہٰذا اس پر زکاۃ اور  قربانی فرض نہیں ، وصول ہونے کے بعد بھی اس پر گزشتہ زمانے کی زکاۃ  اورقربانی فرض نہیں ہے۔اس فنڈ سے لون لینا درست نہیں ہے ؛ کیوں کہ حکومت اس پر زائد وصول کرتی ہے جو سود ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200038
تاریخ03-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں