بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خودرو درختوں میں عشر واجب نہیں

سوال

ہماری کچھ بنجر زمینیں ہیں ،جن پر ایک جنگلی قسم کا درخت کیکر اگتاہے،یہ درخت خود ہی اگتاہے ، اور ہم اس کو اگانے کے لیے کسی قسم کی کوئی محنت نہیں کرتے۔ان درختوں کا اور کوئی  استعمال نہیں ہے، لہذا ہم اس  کوکاٹ کر جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا اس درخت میں بھی دوسری فصلوں کی طرح زکاۃ وغیرہ دینی پڑے  گی یانہیں،جیسے : گندم وغیرہ میں عشر وغیرہ دیاجاتاہے؟

جواب

مذکورہ درختوں میں عشر واجب نہیں۔البحرالرائق میں ہے:

''وكذا لا عشر فيما هو تابع للأرض كالنحل والأشجار ؛ لأنه بمنزلة جزء الأرض ؛ لأنه يتبعها في البيع، وكذا كل مايخرج من الشجر كالصمغ والقطران لانه لايقصدبه الاستغلال''۔[2/256،دارالمعرفہ] فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143902200037
تاریخ03-11-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں