بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دیوالی کی مٹھائی کا حکم

سوال

ہمارے آفس میں ایک ہندو شخص دیوالی کی مٹھائی دے گیا تھا، کیا ایسی مٹھائی کھائی جاسکتی ہے؟ اور اگر نہیں تو کس کو دی جائے؟ 

جواب

دیوالی کے موقع پر ہندوؤں کی جانب سے دی گئی مٹھائی وغیرہ کے متعلق اگر یہ یقین ہو کہ انہوں نے اپنے باطل معبودوں کے نام پر نہیں چڑھائی ہے اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہے، نیز دینے والوں کی آمدنی بھی حلال ہو تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ پھر بھی احتیاط بہترہے۔مزید یہ کہ اگر غیر مسلم اپنے تہوارکے موقع پر کوئی چیز پیش کرے تو اسے تہوار کی مبارک باد ہرگز نہ دی جائے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200107
تاریخ19-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں