بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طویل المیعاد قرض کی رقم کو زکاۃ کی رقم سے منہا کرنا

سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں،ادارے کے قانون کے مطابق میں نے بلاسود قرض لیا ہے جو کہ مجھ سے ماہانہ تنخواہ میں قسط وار کٹتارہتاہے،اور یہ قسطوں کی صورت میں کٹوتی ریٹائرمنٹ تک چلتی رہے گی،اور ملازمت چھوڑنے کی صورت میں سارا قرضہ ادا کرناپڑے گا،موت کی صورت میں بچوں کو قسطیں معاف کردی جائیں گی،اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ: زکاۃ کے حساب کے وقت سارا قرضہ منہاکیاجائےگا یا نہیں ؟یاآئندہ ایک سال کی قسطیں منہا کی جائیں گی؟یاسارے قرضہ کی زکاۃ دینی پڑے گی؟

جواب

آپ آئندہ ایک سال کی قسطین منہا کرکے زکاۃ اداکریں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200106
تاریخ19-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں