بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل ایزی لوڈ کا حکم

سوال

بعض علماء کرام ایزی لوڈ کو حرام کہتے ہیں اور کارڈ خرید کر ڈالنے کو جائز کہتے ہیں،جب کہ پیسوں کی کٹوتی دونوں صورتوں میں ہوتی ہے۔ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

موبائل کمپنی نقد رقم وصول کرکے صارف کو اس کے بدلے ادھار نہیں دیتی، بلکہ کمپنی کی طرف سے جو رقم صارف کے موبائل میں ظاہر ہوتی ہے وہ در حقیقت گفتگو کا حق اور حاصل کردہ سہولت کی علامت ہوتی ہے۔ گویا کہ کارڈ ڈالنے یا ایزی لوڈ کروانے والے شخص نےکمپنی سے نقد رقم نہیں لی،  بلکہ رقم کے بدلہ میں ایک متعین خدمت لی ہے،اور ایزی لوڈ اور کارڈ ڈالنے کی صورت میں کچھ رقم کی کٹوتی کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس  کی مد میں ہوتی ہے۔لہذا دونوں صورتوں  میں جو زائد رقم کمپنی وصول کرتی ہے اس پر سود کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200100
تاریخ17-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں