بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کبوتر ودیگر پرندوں کی خرید وفروخت کا حکم

سوال

میرے مالی حالات بہت خراب ہیں اور میں چند مزید پیسے کمانے کے لیے کبوتروں کا کاروبار کرنا چاہتا ہوں. کیا کبوتروں کا کاروبار جائز ہے؟ اور دیگر پرندوں کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

کبوتر اور دیگر پرندوں کی خرید وفروخت جائز  اور آمدنی حلال ہے۔ البتہ کبوتر یا دیگر پرندے اڑانے کو مشغلہ بنانا درست نہیں ہے۔ فقط  واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200099
تاریخ16-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں