اسٹیٹ بینک کی پینشن کا حکم
سوال
بکر کے والد اسٹیٹ بینک ، پاکستان میں ملازمت سے ریٹائرہوئے۔ اب ان کوپنشن ملتی ہے۔ کیا یہ آمدنی حرام ہے؟ ان کے بچوں کو جو اب خود کما رہے ہیں ، والد کے گھر جب جائیں تو کھانا پینا جائز ہے؟ ان کے بچوں نے اب تک جو پیسے والد صاحب کے استعمال کیے ، کیا ان کا لوٹانا (اگر یہ سود ہے جو لوگوں سے بینک نے لیا) ان کے حق داروں کو ان کے ذمہ ہے ، جو ناممکن ہے؛ کیوں کہ ان لوگوں کا علم نہیں؟ لیکن کیا ان لوگوں کی طرف سے صدقہ کرنا چاہیے؟
جواب
بینک کی نوکری جائز نہیں؛ ا س لیے تنخواہ اور پنشن بھی جائز نہیں۔ اگر بکر کے والد کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہ ہو تو ان کے گھر کا کھانا پینا جائز نہیں۔ اس صورت میں اولاد نے مکلف ہونے کے بعد اب تک جو کچھ اپنے والد کے گھر کھایا ہے اس کے بقدر رقم لوٹانا لازم نہیں، البتہ صدقِ دل سے توبہ واستغفار کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

