بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر سے خالی گیم بنانے کا حکم

سوال

کیا ایسا گیم بنانا جائز ہے کہ جس میں تصویر نہ ہو اور وہ گیم لوگ کھیلتے ہوں؟

جواب

گیم میں  اگرچہ  تصویر نہ بھی پائی جائے تب بھی گیم کھیلنے میں وقت کاضیاع اور دیگرکئی پہلوؤں سے مفاسد اور خرابیاں پائی جاتی ہیں ، اس بنا پر  اس طرح کا گیم بنانا  بھی کراہت سے خالی نہیں ہے ، لہٰذا گیم بنانے سے  اجتناب کیاجائے۔فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200056
تاریخ03-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں