بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں طلاق کا خیال آنے سے طلاق کا حکم

سوال

ایک دن میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ: "سونا مت ورنہ نقصان ہوگا"، دل میں صرف خیال آیا کہ سوگئی تو طلاق ، میں واپس آیا تو اس کی آنکھیں بند تھیں، میں نے اس کو اٹھایا  اس نے کہا کہ : سوئی نہیں تھی، کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

جواب

 جب تک طلاق کے (صریح یا کنائی) الفاظ زبان سے ادا نہ کیے  جائیں تو صرف دل میں طلاق کا خیال آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ اس لیے صورت مسئولہ میں سائل کی  بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200043
تاریخ02-10-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں