دل میں طلاق کا خیال آنے سے طلاق کا حکم
سوال
ایک دن میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ: "سونا مت ورنہ نقصان ہوگا"، دل میں صرف خیال آیا کہ سوگئی تو طلاق ، میں واپس آیا تو اس کی آنکھیں بند تھیں، میں نے اس کو اٹھایا اس نے کہا کہ : سوئی نہیں تھی، کیا اس طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے؟
جواب
جب تک طلاق کے (صریح یا کنائی) الفاظ زبان سے ادا نہ کیے جائیں تو صرف دل میں طلاق کا خیال آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ اس لیے صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

