بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کا نام امامہ رکھنا

سوال

میں نے اپنے بیٹے کا نام «امامہ احمد » رکھا ہے، جب کہ «امامہ» لڑکی کا نام مشہور ہے، مگر اس نام کے معنی واضح نہیں۔  میں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام« اسامہ احمد » اور اس سے چھوٹے کا نام «امامہ احمد»  رکھ دیا، آیا اس میں کوئی مبالغہ یا کسی غلطی کا احتمال تو نہیں یا یہ نامناسب تو نہیں؟

جواب

  امامہ کا مادہ ( ام م)  ہے جس کے معانی سیادت، قیادت، آگے بڑھنے کے ہیں، (المنجد، ص: ۱۷) البتہ لفظ "امامہ" ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ  عربی لغت میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکا، " امامہ " حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کا نام ہے، جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں ،" اُمامہ بنت أبی العاص"۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی نام کسی صحابیؓ یا صحابیہ  سے منسوب ہو تو اس کے معنیٰ کی طرف توجّہ دینے کی ضرورت نہیں؛ اس لیے  کہ  انبیاء کرام علیہم السلام اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں ناموں کے معانی نہیں دیکھے جاتے ، بلکہ ان کی شخصیت ونسبت  کی بنا پر ان ناموں کو رکھنے کی ترغیب ہے، کیوں کہ کسی نام کے باسعادت اور بابرکت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے؛  لہٰذا اس نام پر لڑکی  کا نام تو  رکھ سکتے ہیں ،لڑکے کا نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200023
تاریخ28-09-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں