بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منکرینِ حیاۃ النبی کی اقتدا میں نماز کا حکم

سوال

میں حافظ ہوں اور مسجد کے جس قاری صاحب سے حفظ کیاہے ان سے متعلق پتا چلا ہے کہ ان کا تعلق ایسی جماعت سے ہے جو "مماتی" سے ہے۔اب یہاں لوگوں میں تشویش ہے کہ آیاان کے پیچھے نماز ہوتی ہے یانہیں؟میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ:

1۔حیاتی اور مماتی ان کا تعلق دیوبند سے ہے؟

2۔کیا مماتیوں کی اقتدا میں نماز ہوتی ہے؟اور اگر مکروہ ہے تو کون سی مکروہ ؟ برائے مہربانی مختصر وضاحت فرمادیں۔

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے متعلق اہل السنہ والجماعہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ وہ اپنی قبروں میں جسدِ مبارک کے ساتھ زندہ ہیں، ان کو وہاں ان کے رب کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور ان کے جسموں کو قبر کی مٹی نہیں کھا سکتی۔ یہی عقیدہ علماء دیوبند کاہے۔

بعض لوگ جو  اس عقیدے کے منکر ہیں وہ لوگ "مماتی"  کہلاتے ہیں، ایسے لوگ جو حیات النبی کے منکر ہوں وہ اہل السنہ والجماعہ سے خارج ہیں، ان کا دیوبندیت سے کوئی تعلق نہیں ، ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔ اگرآپ کے امام صاحب واقعۃً عقیدہ حیات النبی ﷺ کے منکر ہیں تو ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوگی، اور اگر حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کا عقیدہ درست ہے تو ان کی اقتدا میں نماز بلاکراہت جائزہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200007
تاریخ23-09-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں