بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے دفاع کے لیے قسم کھانا

سوال

زید ایک کمپنی کا اسسٹنٹ مینیجر ہے، زید کی موجودگی میں 2لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، زید کو کہا جاتا ہے کہ آپ اس کا حساب دیں ، زید تحقیق کے بعد ایک لاکھ کا حساب دے دیتا ہے، باقی ایک لاکھ کا نہیں معلوم کہ کہاں خرچ ہوئے۔ زید نے اپنے استعمال میں بھی نہیں لائے اور نہ ہی چرائے ہیں۔ زید کو کہا جاتا ہے کہ آپ قرآن پاک کی قسم اٹھائیں تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے، کیا زید اپنے دفاع کے لیے قرآن پاک کی قسم کھا سکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر زید اپنے موقف میں سچاہے اور قسم کے بغیر  اس کی بات پر یقین نہ کیا جارہاہو تو قسم اٹھاسکتاہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143901200005
تاریخ23-09-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں