قضا نمازوں کا حساب کیسے لگائیں؟
سوال
اگر کوئی بلوغت سے نماز کا عادی رہا ہو اور یہ یاد ہو کہ کبھی کبھار نماز رہ جاتی تھی, البتہ فرض ہونے کے بعد تقریبا ۲۰ سال قضا کی عادت نہیں تھی تو قضا کی تعداد کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟
جواب
اگربلوغت کے بعد کبھی کبھار نماز قضاہوجاتی تھی اوران قضا نمازوں کی تعداد حتمی طور پر معلوم نہیں ہے تو غالب اندازے اور تخمینہ سے ایک تعداد مقرر کرکے قضا نمازیں پڑھی جائیں گی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143812200061
تاریخ09-09-2017

