بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ورثاء کی زمین پر بغیر اجازت مسجد تعمیر کرنا

سوال

مغصوبہ زمین میں مسجد بنانا کیسا ہے؟ میرا مطلب ہے کہ: اگر کوئی اپنی بہن کو زبردستی اپنے باپ کی جائیداد میں سے حصہ نہیں دیتا اور اس میں مسجد بنانا چاہتا ہے تو یہ کیسا ہے؟

جواب

کسی وارث کے حصہ کوغصب کرنایاکسی وارث کو اس کا شرعی حصہ نہ دیناسخت گناہ اور جرم ہے،حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت ہے ، چناں چہ بخاری شریف کی روایت میں ہے:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے دوسرے کی کچھ بھی زمین ناحق لے لی توقیامت کے دن وہ زمین کی وجہ سے (اور اس کی سزامیں)زمین کے ساتوں طبق تک دھنسایاجائے گا‘‘۔کسی وارث کی اجازت کے بغیر اس کے حصہ کو  مسجدبنانا یا مسجد میں شامل کرناجائز نہیں ۔ لہذا اگر کوئی شخص  والد کی جائیداد میں سے بہن کا حصہ دیے بغیراس کا حصہ  مسجدمیں شامل کردیتاہے تووہ گناہ گار ہے اورمسجد کا اس قدر حصہ شرعی مسجد نہیں کہلائے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143812200054
تاریخ07-09-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں