بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن خرید و فروخت کا حکم

سوال

میں اسلامی مدرسے کے درجہ ثانیہ کا طالب علم ہوں ،کیا آن لائن کاروبار ٹھیک ہے؟ جب کہ خریدار کیسی اور ملک میں ہو اور مبیعہ بھی آپ کے دسترس میں نہ ہواور پیسے بھی ایڈوانس لے لیے جائیں؟

 مثال کے طور پر میں چند آن لائن ویب سائٹ دے رہا ہوں :

aliexpress (china online business), alibaba (china online business), daraz (Pakistan online business) shopify (Europe online business) ebay (Europe online business)

برائے مہربانی اسلامی نقطہ نظر سے جواب دیں۔

جواب

آن لائن کاروبار میں اگر مبیع (جوچیزفروخت کی جارہی ہو)بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے اور وہ محض اشتہار ،تصویردکھلاکر کسی پر وہ سامان  فروخت کرتاہے اور بعد میں وہ سامان  دکان،اسٹوروغیرہ سے خرید کردیتاہے تو یہ صورت جائز نہیں ؛ اس لیے کہ بائع کی ملکیت میں مبیع موجود نہیں ہے اور وہ غیرکی ملکیت میں موجودسامان کو فروخت کررہاہے۔

اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بائع مشتری کو یہ کہہ دے کہ یہ سامان  میری ملکیت میں نہیں ،میں اسے خرید کرآپ پر اتنی قیمت میں فروخت کرسکتاہوں،اگر آپ راضی ہیں تو میں یہ سامان  خرید کر اپنے قبضہ میں لے کر آپ پر بیچ دوں گا۔یوں بائع اس سامان کوخرید کر اپنے قبضہ میں لے کر باقاعدہ سودا کرکے مشتری پر فروخت کرے تو یہ درست ہے۔

اسی طرح آن لائن کام کرنے والا فرد یا کمپنی ایک فرد (مشتری) سے آرڈر لے اورمطلوبہ چیز کسی دوسرے فرد یا کمپنی سے لے کر خریدار تک پہنچائے اور اس عمل کی اجرت مقرر کرکے لے تو یہ بھی جائز ہے۔

اور اگر مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو اور تصویر دکھلا کرمشتری پر فروخت کی جارہی ہو اور مشتری سے قیمت وصول کرلی جائے تو یہ بیع درست ہے، البتہ جب مبیع مشتری تک پہنچ جائے اور دیکھنے کے بعد اس کی مطلوبہ شرائط کے مطابق نہ ہوتواسےواپس کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔

ان دونوں صورتوں  میں  مشتری جب تک مبیع پر قبضہ نہ کرلے وہ آگے کسی اور پر وہ سامان فروخت نہیں کرسکتا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143812200012
تاریخ25-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں