بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شہر میں رہائش پذیر شخص اپنے گاؤں میں قصر پڑھے گا یا اتمام

سوال

میں راول پنڈی میں رہتا ہوں جب کہ میرا گاؤں راول پنڈی سے دو سو کلو میٹر دور ہے، میرا گاؤں میں ایک مکان ہے ، لیکن مکان میں ہم رہتے نہیں، میں دو مہینے بعد گاؤں جاتا ہوں تو وہاں رہتا ہوں، تو کیا گاؤں میں نماز میں قصر پڑھوں گا یا پوری؟

جواب

اگر گاؤں کو مستقل ترک نہیں کیااگر چہ رہائش گاؤں میں نہیں رکھی ہے  تو جب بھی گاؤں جانا ہوگاگاؤں میں پوری نماز پڑھیں گے خواہ پندرہ دن سے کم کے لیے ہی جانا ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143812200009
تاریخ24-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں