بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انشورنس پالیسی کا حکم

سوال

بعض کمپنیوں میں اصول ہوتا ہے کہ 3ماہ بعد جب ان کے ملازمین پرمنٹ ہو جاتے ہیں تو ان کی انشورنس کروادی جاتی ہے حال آں کہ مزدور کو اس کا علم نہیں ہوتا ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟راہ نمائی فرمائیں۔نیز ہم نے سنا ہے کہ آج کل آپ ریل گاڑی پر سفر کریں تو اس کی ٹکٹ پر بھی لکھا ہوتا ہے 15 روپے انشورنس کے، ایسی صورت سفر کرنا کیسا ہے؟

جواب

انشورنس کامروجہ طریقۂ کارشرعاً ناجائزوحرام ہے،اس لیےکمپنی کی طرف سے کسی ادارہ سے اپنےملازمین کے لیے انشورنس معاہدہ شرعاً درست نہیں۔ملازم کےلیے حکم یہ ہے کہ اگر اس کے علم کے بغیر کمپنی نے اس کے لیے انشورنس پالیسی خریدی ہے یا ملازم ملازمت کے تحت کمپنی کی جانب سے پالیسی لینے پر مجبور ہے تو وہ گناہ گار نہیں، البتہ  ملازمین کے لیے  پالیسی سے صرف اسی قدر فائدہ اٹھانادرست ہوگا جس قدرکمپنی نے اپنے ملازم کے لیے انشورنس کی مدمیں رقم جمع کروائی ہے۔

۲۔ مذکورہ صورت میں ریل کاسفر درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143812200004
تاریخ24-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں