بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لفظ جاؤ سے طلاق کا حکم

سوال

 اگر میاں بیوی کے جھگڑے کے دوران بیوی شوہر سے کہے کہ :مجھے کیوں رکھا ہوا ہے؟ جانے دو، اور شوہر جواب میں کہے : جاؤجہاں جانا ہے۔  تو کیا اس سے کسی قسم کی طلاق واقع ہوگی؟ اگر ہاں تو اس کا کیا حل ہے؟  شوہر کی نیت نہ طلاق کی تھی  اور نہ ہے۔ اور نہ ہی اس نے طلاق کا سوچا تھا۔

جواب

مذکورہ لفظ کنایات طلاق میں سے ہے، پس جب شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ ( شامی، ج: ۳، ص: ۲۹۸، ط: سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200088
تاریخ22-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں