بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یورپ میں مکان کے لیے بینک سے سودی قرض لینا

سوال

یورپ میں بامر مجبوری بینک سے مکان کے لیے قرضہ لینا کیسا ہے؟ اور یہاں کے بینک سے سود ی معاملہ کرنے کے بارے میں بھی بتا دیں۔ 

جواب

واضح آیات اور احادیث مبارکہ میں سودی معاملہ اور لین دین پر سخت وعیدیں آئی ہیں، لہذا مکان کے  لیے کسی بھی مقام (خواہ وہ یورپ ہو یا کوئی اور ملک) کے بینک سے سود ی معاملہ کرنا  شرعاً ناجائزہے ، بہتر متبادل صورت یہ ہے : آپ مقامی حکومت یا کسی شخص سے قسطوں پر مکان خریدلیں یا وہاں کے رہائشی مسلمانوں کو اس جانب متوجہ کریں کہ وہ مل کر اپنے مکانات بنائیں اور مسلمانوں کو قسطوں پر فروخت کریں، اس طرح آپ سمیت دیگر مسلمان بھی سود سے بچ سکیں گے۔ فقط واللہ اعلم  

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200083
تاریخ21-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں