بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بی۔سی میں جمع کردہ رقم کی صورت میں قربانی کا حکم

سوال

اگرکہیں بی،سی ڈالی ہو اور ا س کے پیسے ابھی تک نہیں ملے، اور اس بی،سی  کی مجموعی رقم اس سے زیادہ ہو جس پر قربانی واجب ہوتی ہے،تو کیاایسی صورت میں قربانی کرنا واجب ہوگا یانہیں؟ اور اگر اتنی رقم بھر دی ہے جس پر قربانی واجب ہوتی ہوتواس صورت میں قربانی واجب ہوگی یانہیں؟

جواب

اگرکسی شخص نے  بی،سی میں اتنی رقم جمع کردی ہے جوساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو اور وہ  شخص مقروض بھی نہیں تو اس پرقربانی کرناواجب ہے۔اگر بی، سی کی مجموعی مالیت قربانی کے نصاب کے برابر ہے، لیکن بی، سی میں شامل شخص نے نصاب قربانی کے برابر رقم جمع نہیں کی اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی مالیت بھی نہیں تو اس پر قربانی واجب نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200082
تاریخ21-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں