بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے خیالات آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی

سوال

 اگرکسی شخص کے دل میں یہ خیال آتاہوکہ اگر میرایہ کام تم نے نہیں کیاتوتمہیں طلاق،لیکن یہ خیال صرف دل میں باربار آتاہو ،تواس کا کیاحکم ہے؟جب کہ وہ شخص اپنی بیوی کو طلاق دینانہیں چاہتا۔

جواب

خیال اور وسوسے آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہذا صورت مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔اس قسم کے خیالات کی طرف دھیان ہی نہیں دینا چاہیے۔(فتاویٰ شامی،2/570،ط:سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200063
تاریخ15-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں