بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گم شدہ کے لیے استخارے کا حکم

سوال

ہماری والدہ پچیس جولائی ۲۰۱۷ء کی صبح دس بجے گھر سے ناراض ہوکر چلی گئی ہیں اور اب تک کوئی پتانہیں ہے، ہم سب  بہت پریشان ہیں، ان کے متعلق استخارہ کروانا ہے۔ 

جواب

آپ نے گھر سے والدہ کے ناراض ہوکر جانے کے متعلق استخارہ کا ذکر کیا ہے، تو ایسے کاموں کے لیے استخارہ نہیں کیا جاتا، استخارہ کا مفہوم ہے : کسی کام کے متعلق اللہ تعالی سے خیر مانگنا کہ اگر یہ کام میرے حق میں بہتر ہے تو اس کی رکاوٹیں دور ہوجائیں، ورنہ اللہ تعالی میرے دل کو اس کی طرف سے پھیر دے۔

 آپ استخارے کے بجائے والدہ کی تلاش کے لیے ممکنہ ذرائع استعمال کریں، جہاں جہاں ان کے جانے کا امکان ہوسکتا ہے وہاں معلوم کریں، یا اخبار وغیرہ کا ذریعہ استعمال کریں، اور گھر کے لوگ  روزانہ عشا کے بعد "یاودود" چودہ سو بار پڑھتے  رہیں،یاپھر روزانہ چالیس بارسورۃ الضحٰی پڑھ لیاکریں۔ یا ایک ہزار مرتبہ " انہ علی رجعہ لقادر" (سورۃ الطارق) ایک مجلس میں پڑھ کر دعا کریں۔ فقط  واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200055
تاریخ11-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں