بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق نامے پر دستخط کا حکم

سوال

میرا اور میری بیوی کا اختلاف  ہوگیا، معاملہ پولیس اسٹیشن گیا تو انہوں نے کورٹ سے کاغذات بنواکر لانے کو کہا، میں نے کورٹ سے کاغذات  بنوائے تو وہاں اسٹیمپ لگانے والے نے کہا کہ آپ سائن کریں، تب اسٹیمپ لگے گی، پھر پولیس اسٹیشن میں معاملات کے بعد گواہوں کے دستخط ہوں گے، میں نے اس خیال سے کہ پولیس اسٹیشن میں معاملات سدھر جائیں گے، ان کاغذات پر دستخط کرلیا، ان پر تین طلاق لکھی تھیں، جب کہ دستخط کے وقت میری نہ ایک طلاق کی نیت تھی نہ تین طلاقوں کی، بلکہ صرف پولیس کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے یہ کاغذات بنوائے تھے، اب اس صورت میں کیاطلاق واقع ہوگئی؟  

جواب

صورت مذکورہ میں اگر آپ کو یہ علم تھا کہ کاغذات میں تین طلاق درج ہیں تو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔  اوراگریہ علم تھاکہ کاغذات میں طلاق درج ہے مگر تین طلاقوں کا علم نہیں تھا اور اس پرحلف بھی اٹھا لیتےہیں تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہےاورعدت کے دوران رجوع ہوسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200048
تاریخ10-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں