بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرمین کے صحن اور باہر سڑکوں پر نماز پڑھنے کے لیے اتصالِ صفوف کا حکم

سوال

حرمین شریفین میں نماز باجماعت کے دوران بہت سے لوگ باہر صحن اور روڈ پر صفیں  بنا لیتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے کیا اتصال ضروری ہے؟ اتصال سے کیا مراد ہے؟

جواب

جماعت کے ساتھ نماز کے صحیح ہونے کے لیے صفوں کا متصل ہوناضروری ہے،  صفوں کے اتصال کے بغیر امام کی اقتدا صحیح نہیں ہوگی،  حرمین میں بھی جو لوگ مسجد  کی حدود کے باہر سڑک وغیرہ پر صفیں بنالیتے ہیں، ان کے لیے بھی صفوں کا اتصال ضروری ہے،  اتصال سے مراد یہ ہے کہ درمیان میں کوئی عام راستہ یا دو صفوں کے بقدر فاصلہ  نہ ہو، البتہ اگر دیوار حائل ہو  اور امام کے انتقالات (ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے) سے مقتدی باخبر رہیں تو ان مقتدیوں کی نماز درست ہے، اور اگر امام کے رکوع وسجدوں میں بھی اشتباہ ہو تو  درست نہیں۔ اور اگرمسجدِ حرام کی حدود کے اندر  دو صفوں کے برابر یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو تو نماز صحیح ہوجائے گی، البتہ بغیر عذر کے اتنا فاصلہ چھوڑنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200047
تاریخ09-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں