بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیمرے کی تصویر کا حکم

سوال

میں ایک دوکان دار ہوں اور میں پرنٹنگ، فوٹوسٹیٹ اور ای میل وغیرہ کرتا ہوں ۔ اکثر لوگ میرے یہاں پاسپورٹ سائز تصاویر بنوانے کے لیے آجاتے ہیں، جو کہ زیادہ تر اداروں نے داخلہ فارم وغیرہ کے لیے  لازم قرار دی ہیٰں تو  کیا  ان لوگوں کےلیے  اس قسم کی تصاویر بنو اسکتا ہوں ؟ 

جواب

تصویر سازی کی حرمت کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اور اس حوالے سے قدیم وجدید کسی بھی طریقہ اور آلے سے بنائی گئی تصاویر، حرام ہونے میں برابر ہیں، رہا اداروں کی جانب سے تصویر کو لازم قرار دینا تو اس کی ذمہ داری انہیں پر ہے، آپ کے لیے اس عمل  سے بچنا لازم ہے اورتصاویر بناناجائز نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200019
تاریخ02-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں