بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی کی انشورنس کا حکم

سوال

میں سعودیہ میں ملازمت کرتا ہوں، یہاں کار ڈرائیو کرنے کے لیے اس کا انشورنس کرانا لازمی ہے، ایکسیڈنٹ ہوجائے تو گاڑی کی رپئیرنگ کروائی جاتی ہے، اور کار انشورنس نہ کرائی گئی ہو تو اس پر جیل میں بھی بھیجا جاسکتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

کار انشورنس بھی جوئے کی ایک صورت  ہے اور اپنے اختیار سے کار انشورنس کراناشرعاً جائز نہیں، لیکن جبری اور قانونی طور پر اگر کار کی انشورنس کرانا لازمی ہو تو (دل سے ناجائز سمجھتے ہوئے انشورنس کرانے والے مجبور شخص کو)  اس کا گناہ نہیں ہوگا،  البتہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں صرف اپنی جمع کی ہوئی رقم کے بقدر ہی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200018
تاریخ02-08-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں