بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے طاقت استعمال کی جاسکتی ہے؟

سوال

کیا  آج کل کے دور میں بڑھتی ہوئی فحاشی وبے حیائی کو طاقت کے زور سے ختم کیا جاسکتا ہے؟ ہر قسم کی معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کا کیا طریقہ ہے تاکہ دینی ماحول وجود میں آجائے؟

جواب

اللہ تعالی نے ہر انسا ن کو اس کی وسعت کے بقدر مکلف بنایا ہے، اور وسعت سے زیادہ کا نہ وہ مکلف ہے اور نہ ہی آخرت میں اس پر اس کی گرفت ومواخذہ ہوگا، معاشرتی برائیوں کی روک تھام اور ان کا خاتمہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس میں حکام اور عوام کا اپنا  اپنا دائرہ کار ہے، اس حوالے سے ایک فرد کی ذمہ داری اس حد تک ہے کہ: وہ اپنی وسعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو ادا کرتا رہے ، اور اس بارے میں شریعت کے آداب واصولِ تبلیغ کو پیش نگاہ رکھے، اور برائی کی روک تھام کے لیے خود کسی برائی کا مرتکب نہ ہو، عام فرد کو طاقت کا استعمال اس کے لیے جائز نہیں،  البتہ برائی کی شناعت کے پیشِ نظر اربابِ اقتدار کو بزور روکنے کا اختیار حاصل ہے،  بشرطیکہ اس بنیاد پر شریعت کے دیگر احکام کی پامالی نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143811200012
تاریخ31-07-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں