بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جج کا کسی کی سفارش پر فیصلہ دینے کا حکم

سوال

کوئی جج کسی حاکم، سینئر جج یا کسی بھی شخص کی سفارش پر فیصلہ دیتا ہو تو اس جج کی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر سفارش جائز ہو اور سفارش کی وجہ سے جج نے ناحق فیصلہ نہیں کیا تو سفارش کرنے والے کو اجر ملے گا اور جج صاحب کی تنخواہ بھی جائز ہوگی۔ اور اگر سفارش ناحق ہو اور اس کی بنا پر جج نے فیصلہ بھی غلط کیا تو  دونوں گناہ گار ہوں گے اور غیر شرعی فیصلے پر تنخواہ لینا بھی ناجائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143810200026
تاریخ14-07-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں