بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیکسی ڈرائیور کا شراب خانہ اور جوئے خانہ کی سواریاں لے جانا

سوال

 میں کینیڈا میں رہتا ہوں اور ٹیکسی چلاتا ہوں، رات کے وقت شراب خانے اور جوۓ خانے کی سواریاں ملتی ہیں،  کیا ان سے حاصل آمدنی حلال ہے یا حرام ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں حاصل شدہ آمدن حلال ہے؛ اس لیے کہ شراب نوشی یا جوا کھیلنا ان کا ذاتی فعل ہے، لے جانے والا اس کا جواب دہ نہیں۔

کذا في الهندیة:

"وإذا استاجر الذمي من المسلم دارًا یسکنها فلا بأس بذلك، و إن شرب فیه الخمر أو عبد الصلیب أو أدخل فیها الخنازیر ولم یلحق المسلم في ذلك بأس؛ لأن المسلم لایواجر لذلك". ( ج: ۴، ص: ۴۵۰)

وفي خلاصة الفتاوی: وکذا کل موضع تعلق المعصیة بفعل فاعل مختار". ( ج: ۳، ص: ۱۴۹) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143810200025
تاریخ13-07-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں