بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین کی خریدوفروخت

سوال

آج کل زمین کی خریدوفروخت کا کاروبار بہت زوروں پر ہے، کسی بھی پراجیکٹ میں بکنگ کراوالیں، شروع کی 2،3 قسطوں کے بعد اس کو سیل کردیں ، 2،3 لاکھ روپے اون مانگا  جاتا ہے، اور اگلی پارٹی کو بیچ دیا جاتا ہے۔کیا شریعت کے لحاظ سے درست ہے؟

جواب

کسی بھی زمین  کی بیع درست  اور مکمل ہونے کے لیے اتنا ضروری ہے کہ  وہ زمین نقشہ میں موجود اور متعین  ہو ، آج کل  پراجیکٹس میں زمین کا فارم لیا جاتا ہے،اور ابھی تک کی قرعہ اندازی بھی نہیں ہوئی ہوتی کہ اس کو آگے بیچ دیا جاتا ہے، اور او پر اون لیا جاتا ہے، یہ شرعاً درست نہیں۔

 جب تک  اس پراجیکٹ میں یہ زمین متعین نہ ہو کہ کون سی زمین بیچی گئی ہے،  تب تک یہ محض بکنگ ہے، اس حالت میں اس پراپرٹی کو آگے بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ جب زمین متعین  ہوجائے  کہ فلاں حصہ میں آپ کی زمین ہے، تو اگر چہ ابھی تک زمین کی فائل حوالہ نہ کی گئی  ہو ، اس کو آگے بیچا جاسکتا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143810200013
تاریخ05-07-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں