بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی طور پر سورہ ملک کے سننے کا اہتمام کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ :عشاء کی نماز کے بعد امام مسجد سورۃ ملک پڑھے اور مقتدی سارے سنیں ، آیا یہ طریقہ بدعت تو نہیں؟ اس کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

رات کوسونے سے قبل سورۂ ملک کاپڑھناباعث اجروثواب ہے اور حدیث شریف کے مطابق اس سورۃ کی تلاوت کی برکت سے انسان عذاب قبرسے محفوظ رہتاہے۔البتہ امام مسجد کا روزانہ (بآواز بلند )سورۃ ملک کی تلاوت کرنااور لوگوں کا(اہتمام سے) سننا بدعت ہے جس سےاحتراز واجب ہے۔ الاعتصام میں ہے:

’’ منها التزام الكيفيات والهيآت المعينة كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد واتخاذ يوم ولادة النبي ( صلى الله عليه وسلم ) عيدا وما أشبه ذلك ۔ ومنها التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة‘‘۔ (الاعتصام، الباب الأول في تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا،1/39،ط:مصر) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143810200011
تاریخ05-07-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں