بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلم حکمرانوں کے ساتھ نفاذ شریعت اور ظلم سے توبہ تائب کرنے کے لیے مسلح جدوجہد جائز ہے یا نہیں؟

سوال

ایک ایسا مسلمان ملک جس میں جمہوری نظام نافذ ہو اور وہاں کے علماء اس نظام کو اسلامی جمہوری مانتے ہوں اس کے حکمران اور فوج کفار کے صف اول کے اتحادی بھی ہوں اور ان کے ہاتھ اپنے اور پڑوسی ملک کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوں تو ایسے حکمرانوں کے ساتھ نفاذ شریعت اور ظلم سے توبہ تاٰئب کرنے کے لیے مسلح جدوجہد جاٰٰٰٰٰٰٰٰئز ہے یا نہیں؟ 

 

جواب

ذکر کردہ صورتِ حال میں مسلح جدوجہدجائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143810200006
تاریخ02-07-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں