بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثت وصول کرنے سے قبل معاف کردینا

سوال

 کیا وراثت کا قبضہ کیے بغیر معاف کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا بہن معاف کی ہوئی وراثت دوبارہ مانگ سکتی ہے؟میرے ماموں کے بیٹے نے میری ماں کو وراثت کا حق دینے کے لیے بنک سے رقم لی تھی، لیکن میری ماں نے کہا تھا : میں نے معاف کیا ہے، میں نہیں لیتی۔ اب ماں دوبارہ اپنا حق مانگ سکتی ہے؟ اور میری ماں کے لیے  دوبارہ جائز ہے کہ اپنا حق حاصل کرے جو پہلے معاف کیا تھا؟ مفصل جواب دیں، ماں نے رقم قبضہ بھی نہیں کی تھی اور زمین کا ایک ٹکڑا بھی الگ کیا تھا، لیکن ماں نے قبضہ کیے بغیر کہا تھا :میں نے تم کومعاف کر دیا یا وراثت معاف کردی، لیکن دوبارہ اپنا حق لینے کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حق وراثت جبری حق ہے جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا، البتہ اپنا حصہ وصول کرلینے کے بعد وارث کسی کو بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ تکملہ  فتاوی شامی میں ہے: "الارث جبری لایسقط بالاسقاط". ( ۷، ۵۰۵)

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ  سائل کی والدہ نے اپنے حق میراث سے دست برادری  اپنا حصہ وصول کرنے  سے قبل کی ہے جوکہ شرعاً معتبر نہیں، لہذا اب بھی وہ اپنا حصہ لینے کی حق دار ہیں،البتہ وصول کرلینے کے بعد جس کو دینا چاہیں دے سکتی ہیں۔فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143810200001
تاریخ27-06-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں