بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے

سوال

کیا تراویح چاررکعات کرکے پڑھائی جاسکتی ہے؟ جیسے بیس رکعات دس سلاموں کے ساتھ پڑھائی جاتی ہیں اگرپانچ سلاموں کے ساتھ پڑھائی جائیں تو جائز ہے یانہیں؟

جواب

نماز تراویح میں افضل دو دو رکعت کرکے پڑھناہے، یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرناچاہیے،تراویح میں چاررکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنا  متوارث طریقہ کے  خلاف ہے،اگرچہ اس طرح بھی تراویح ہوجاتی ہے۔فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143809200008
تاریخ03-06-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں