بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینک سے گاڑی کی خریداری کا حکم

سوال

میں ایک پرائیوٹ ادارہ میں کام کرتا ہوں ،  گھریلو ضروریات اور بچوں کی وجہ سے گاڑی میری بنیادی ضرورت بن چکی ہے،  میں اسلامی بینک کے تحت گاڑی لینا چاہتا ہوں، کیا شرعاً یہ درست ہے؟ طریقہ کار یہ ہے کہ بنک مجھ سے ڈاؤن پیمنٹ لے گا اور پانچ سال کے کرایہ پر مجھے گاڑی سے دے گا، ملکیت بدستور بنک کی رہے گی، جب پانچ سال پورے ہوجائیں گے تو بینک ملکیت مجھے منتقل کردے گا، کیا یہ درست ہے؟

جواب

ہماری معلومات اور تحقیق کے مطابق  مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں؛ اس لیے   کسی بھی بینک کے ذریعہ  مذکورہ طریقے کے مطابق (کہ ابتداءً اجارہ یعنی کرایہ داری اور انتہاءً بیع ہو)گاڑی کی خریداری درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143808200005
تاریخ13-05-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں