بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیعانہ وصول کرنے کے بعد بائع کا گھر کے درخت کے پھل کا استعمال کرنا جائز ہے ؟

سوال

 کیا بیعانہ وصول کرنے کے بعد بائع کا گھر کے درخت کے پھل کا استعمال کرنا جائز ہے ؟ابھی نہ قبضہ دیا ہے نہ ہی قیمت وصول ہوئی ہے؟

جواب

بیعانہ شرعاً قیمت کا حصہ ہے، جو کہ  عرفاً بیع کے مکمل ہونے کی دلیل ہے،جب کہ  شرعاً بیع  نفسِ ایجاب وقبول سے مکمل ہوجاتی ہے اگرچہ بائع نے ابھی مبیع کا قبضہ نہ دیا ہو،ا ور مشتری نے قیمت نہ ادا کی ہو۔ اس لیے بیعانہ وصول کرلینے کے بعد  بائع کے لیے فروخت کردہ مکان کے درخت استعمال کرنا جائز نہیں کیوں کہ گھر جب فروخت کردیا تو گھر میں لگے درخت بھی اس کے ضمن میں فروخت ہوگئے،اب وہ خریدار کی ملکیت ہیں۔

البتہ اگر سودا ہونے کے بعدخریدار بغیر کسی دباؤ کے اپنی خوشی سے بائع کو گھر کے درخت کا پھل استعمال کرنے کی اجازت دے اور سودا کرتے وقت یہ شرط بھی نہ رکھی گئی ہو کہ بائع گھر یا اس کے درخت استعمال کرے گا تو بائع کے لیے فروخت کردہ گھر کے درخت کا پھل استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ فقطواللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200036
تاریخ19-04-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں