بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کی ختنہ کا حکم

سوال

کیا عورت کی ختنہ بھی مسنون ہے؟ یا اس کی ختنہ کا حکم مختلف ہے؟ حدیث سے کیا کچھ معلوم ہوتا ہے؟ راہنمائی کیجیے۔

جواب

فقہاء کا اتفاق ہے کہ عورتوں کی ختنہ کروانا کوئی واجبی تاکیدی حکم نہیں ہے، البتہ اس عمل کے سنت یا مستحب ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے، تاہم اتنی بات طے ہے کہ اگر  ختنہ نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ابو داؤد شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کی ختنہ کرنے والی عورت کو یہ تاکید کی تھی کہ زیادہ کھال نہ کاٹا کرے، نیز ایک حدیث  علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان منقول ہے کہ: مردوں کی ختنہ مستحب ہے اور عورتوں کی ختنہ باعث عزت ہے۔ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کارواج نہیں ؛کیوں کہ اس کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200033
تاریخ16-04-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں