بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کی فرضیت کب ہوتی ہے؟

سوال

 حج کی فرضیت کا کیا حکم ہے؟ تفصیل سے بتادیجیے۔ اور اگر گھر موجود ہو اپنا جس میں رہتے ہوں تو کیا اس کو بیچ کر حج کرنا فرض ہے؟

جواب

ہر مسلمان آزاد عاقل وبالغ جو صحت وتندستی کی وجہ سےحج کرنے پر قدرت رکھتا ہواورجس  کے پاس ضروریات زندگی کے پورا کر لینے، نیز اہل وعیال کے واجبی خرچے پورے کرنے کے بعد اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کےضروری اخراجات پورے ہوسکتے ہوں، تو ایسے شخص پر فرض ہے۔ جس مکان میں رہائش ہے،اس کی وجہ سے حج فرض نہیں ہے اورنہ ہی اس مکان کو بیچ کر حج کرنا فرض ہے۔

ہدایہ میں ہے:الحج واجب علی الاحرار البالغین العقلاء الأصحاء اذا قدروا علی الزاد والراحلۃ فاضلا عن المسکن، وما لا بد منہ، وعن نفقۃ عیالہ الی حین عودہ، وکان الطریق آمنا ووصفہ الوجوب ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200019
تاریخ06-04-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں