بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تملیک کے بعد زکاۃ کی رقم تنخواہ میں خرچ کرنا

سوال

ہمارے شہر میں ایک اسکول ہے، جہاں قرآن بھی پڑھایا جاتا ہے اور عصری تعلیم بھی ہوتی ہے۔ اس میں اساتذہ کی تنخواہیں اور کرایہ وغیرہ کے اخراجات فیس سے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم کسی غریب مستحق کو زکاۃ کے پیسے دے کر ترغیب دیتے ہیں کہ اس اسکول کے اخراجات میں ہمیں یہ رقم دے دے۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ واضح رہے کہ ہمارے اس اسکول میں غریب مستحق لوگوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے۔

جواب

شہر وغیرہ میں جہاں بے شمار تعلیم کے ادارے موجود ہوتے ہیں وہاں حیلہ تملیک درست نہیں؛ اس لیے اس حیلے سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200017
تاریخ06-04-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں