بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم کا مصرف مسجد یا مدرسہ ہوسکتا ہے؟

سوال

میری بیوی نے میزان میں سیونگ اکاونٹ کھلوایا تھا، جو اب میں نے کرنٹ اکاونٹ میں تبدیل کروادیا ہے، سوال یہ ہے کہ سیونگ اکاونٹ میں ملنے والا انٹرسٹ بغیر ثواب کی نیت کے کسی مسجد یا مدرسے میں دے سکتا ہوں؟

 

جواب

مذکورہ رقم کسی بھی مستحق زکاۃ کو ثواب کی نیت کے بغیر دی جاسکتی ہے، اسی طرح مدرسے کے زکاۃ فنڈ میں بھی دی جاسکتی ہے؛ کیوں کہ وہ مدرسے کے مستحق طلبا پر خرچ ہوتا ہے۔ البتہ یہ رقم مسجد میں نہیں دی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200016
تاریخ06-04-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں