بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ڈائریکٹ سیلنگ کاحکم

سوال

 آج کل پاکستان میں بہت سی کمپنیاں ایسی ہیں جو نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ڈائریکٹ سیلنگ کے طریقۂ کار کے مطابق کام کرتی ہیں۔ کیا اسلام میں نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ڈائریکٹ سیلنگ حلال ہے؟ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

نیٹ ورک مارکیٹنگ اور ڈائریکٹ سیلنگ   اگر اسلامی اصولوں کے مطابق ہو تو جائز ہے، لیکن آج کل  کمپنیاں جس طریقہ سے یہ کام کررہی ہیں وہ ناجائز ہے۔

اس موضوع سے متعلق تفصیلی فتویٰ مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ ہو:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%B9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B2-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%8C-%DA%A9%D9%85%D9%BE%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D9%85%D8%A8%D8%B1%D8%B4%D9%BE-%D8%AD%DA%A9%D9%85/2015-11-09

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200011
تاریخ02-04-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں