بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق معلق کا ایک مسئلہ

سوال

میرا نام اعجاز ہے، میں اپنی بیوی اور وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں، چار ماہ کا ایک بیٹا ہے، ہمارے بیچ لڑائی بھی کوئی نہیں، میرے بڑے بھائی میری بیوی پر شک کرتے ہیں کہ وہ ہم دونوں بھائیوں کے بیچ علیحدگی کروانا چاہتی ہے، جب کہ ایسا ہرگز نہیں، وہ مجھے بارہا برملا کہہ چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے، اسی بات کا یقین دلانے کے لیے میں نے اپنے بھائی سے دوران لڑائی اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں کہا کہ اگر ایسا ہو تو میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں، اس کے بعد بھی میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا وہ ایسا چاہتی ہے، اس نے پھر قسم کھا کر کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، اب میرے طلاق کے کہے ہوئے الفاظ سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

جب آپ نے طلاق کو اپنی بیوی کے آپ کے بھائی سے علیحدگی چاہنے کے عمل سے مشروط کیا تھا، اور آپ کی بیوی نے قسم کھا کر اس قسم کی چاہت کا انکار کردیا ہے، تو شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143807200001
تاریخ29-03-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں