بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کے ارکان کم از کم دن کتنے میں ادا ہوسکتے ہیں؟

سوال

کم از کم کتنے دن میں حج کے تمام ارکان ادا ہو سکتے ہیں؟ یہ مسئلہ اس شخص کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے جو بیماری کی وجہ سے زیادہ دن سفر میں نہ ٹھہر سکتا ہو یا پھر ایسا شخص جس پر حج فرض ہو ،مگر ملازمت سے کم وقت کے لیے  چھٹی مل رہی ہو، وقت کم ہونے کی وجہ سے مدینہ منورہ میں چالیس نمازوں کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

حج کے کل ایام پانچ ہیں،  ۸ ذالحج سے ۱۲ ذالحجہ تک،ان پانچ دنوں میں تمام فرائض، واجبات اور سنن کی ادائیگی  ہوجاتی ہے۔  مدینہ منورہ میں حاضری اور مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی ادائیگی باعث سعادت وفضیلت ضرور ہے، لیکن مناسک حج کا حصہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143806200016
تاریخ13-03-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں