بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی اہل کتاب ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام قصدا نہ لے اور پاس کھڑا ہوا کوئی مسلمان اس ذبح پر تکبیر پڑھ دے تو کیا اس ذبیحہ کا کھانا جائز ہو گا یا نہیں؟

سوال

اگر کوئی اہل کتاب ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام قصداً نہ لے اور پاس کھڑا ہوا کوئی مسلمان اس ذبح پر تکبیر پڑھ دے تو کیا اس ذبیحہ کا کھانا جائز ہو گا یا نہیں؟

جواب

قصداً تسمیہ (اللہ کانام) ترک کرنے سے جانور حلال نہیں ہوتا، نیز تسمیہ کا ذابح(ذبح کرنے والے)  کے لیے پڑھنا ضروری ہے ،اگر ذبح کرنے والا تسمیہ ترک کردے تو کسی اور کا پڑھنا معتبر   نہیں،لہذا صورت مسئولہ میں جس جانور  کو کسی اہل کتاب  نے ذبح کیا اور بسم اللہ قصداً ترک کردی تو اس کا کھاناحلال نہیں۔ کذا فی الدر المختار: لاتحل ذبیحۃ ۔۔۔۔۔تارک تسمیۃ عمداً ( ج: ۶، ص: ۲۹۹) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143806200015
تاریخ13-03-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں