اگر کوئی اہل کتاب ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام قصدا نہ لے اور پاس کھڑا ہوا کوئی مسلمان اس ذبح پر تکبیر پڑھ دے تو کیا اس ذبیحہ کا کھانا جائز ہو گا یا نہیں؟
سوال
اگر کوئی اہل کتاب ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام قصداً نہ لے اور پاس کھڑا ہوا کوئی مسلمان اس ذبح پر تکبیر پڑھ دے تو کیا اس ذبیحہ کا کھانا جائز ہو گا یا نہیں؟
جواب
قصداً تسمیہ (اللہ کانام) ترک کرنے سے جانور حلال نہیں ہوتا، نیز تسمیہ کا ذابح(ذبح کرنے والے) کے لیے پڑھنا ضروری ہے ،اگر ذبح کرنے والا تسمیہ ترک کردے تو کسی اور کا پڑھنا معتبر نہیں،لہذا صورت مسئولہ میں جس جانور کو کسی اہل کتاب نے ذبح کیا اور بسم اللہ قصداً ترک کردی تو اس کا کھاناحلال نہیں۔ کذا فی الدر المختار: لاتحل ذبیحۃ ۔۔۔۔۔تارک تسمیۃ عمداً ( ج: ۶، ص: ۲۹۹) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

