بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کپڑے کا کاروبار اس شرط کے ساتھ کرنا کہ بائع باتصویر پیکنگ میٹیریل بھی تیار کر کے دے گا

سوال

زید کپڑے کی برآمدات کا کام کرتا ہے, اس کا ایک گاہک ہے جو کہ اس سے گدّوں کے کور خریدتا ہے, اس کا پیکنگ میٹریل جو کہ زید ہی گاہک کی ہدایات کے مطابق چھپواتا ہے، ایک عورت کے برہنہ بازو اور چہرے کی تصویر پر مشتمل ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ: ایک تو سودا کرتے وقت تصویر کے بارے میں علم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ ایک مفتی صاحب نے بتایا ہے کہ: آپ تصویر تو نہیں بیچ رہے آپ تو کپڑا بیچ رہے ہو, اس لیے مجبوری میں جائز ہے۔

ازراہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ: ۱۔ کیا ایسا کاروبار کرنا جائز ہے؟ ۲۔ کیا ایسے کاروبار میں شراکت داری جائز ہے؟ ۳۔ اس مجبوری کی کیا حد ہے جس کے تحت ایسا کاروبار جائز ہو جائے؟ 

جواب

 گدوں کی فروخت  جائز ہے، لیکن  پیکنگ میٹیریل پر جاندار کی تصویرچھپوانا جائز نہیں،تصویر چھپوانےکاگناہ ہوگا،ایسے گناہ پر مشتمل کاروبار کرنااوراس میں شراکت جائز نہیں ہے۔ تاہم جو مال بیچا جائے گا اس کی قیمت حلال ہوگی۔ گزشتہ غلطی پر استغفار اور  آئندہ جاندار کی تصویر چھپوانے سے قطعی اجتناب کیاجائے۔

 گاہک اگر تصویر کے بغیر مال نہ خریدے تو اسے شرعی مجبوری نہیں کہاجائے گا اوراس کی بناپر تصویر کا چھاپنا جائز نہ ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143806200007
تاریخ06-03-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں