بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالوں کی پیوندکاری اور مصنوعی بالوں کا حکم

سوال

 کیا بال عطیہ کرنا کسی کو جائز ہے؟ چاہے اپنے  یعنی زندہ انسان کے بال ہوں یا کسی مردہ کے بال؟  اسی طرح  نقلی بال لگوانا یا کسی انسان کے بال اپنے سر یا جسم پر لگوانا کیسا ہے ؟

جواب

انسانی اعضاء نہ مال ہیں اور نہ ہی انسان اپنے اعضاء کا مالک ہے،اس لیے اپنے اعضاء میں سے کوئی عضو (چاہے بال ہوں یاکوئی اور عضو)نہ کسی کوہبہ کرسکتاہے،نہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے۔یہی حکم مردے کابھی ہے،یعنی کسی مردہ انسان کے اعضاء میں سے بھی کوئی عضو کسی دوسرے کولگاناجائزنہیں۔

مصنوعی بال اگر کسی دوسرے انسان یا خنزیر کے نہ ہوں تولگاناجائز ہے(بشرطیکہ ان مصنوعی بالوں سے کسی موقع پر دھوکا یا خلافِ حقیقت صورت کا اظہار مقصود نہ ہو) اوراگر ہٹانے سے ہٹتےہوں تو ان پر مسح نہیں ہوگا،یعنی وضو اور غسل کے وقت ہٹاناضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143806200004
تاریخ03-03-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں